كِتَاب الْمُسَاقَاةِ سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا

حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير الهمداني ، حدثنا ابي ، حدثنا زكرياء ، عن الشعبي ، عن النعمان بن بشير ، قال: سمعته يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " واهوى النعمان بإصبعيه إلى اذنيه، إن الحلال بين وإن الحرام بين، وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس، فمن اتقى الشبهات استبرا لدينه وعرضه، ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام كالراعي يرعى حول الحمى يوشك ان يرتع فيه، الا وإن لكل ملك حمى، الا وإن حمى الله محارمه، الا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله الا وهي القلب "،

‏‏‏‏ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور اشارہ کیا نعمان نے اپنی انگلیوں سے دونوں کانوں کی طرف، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مقرر حلال کھلا ہے اور حرام بھی کھلا لیکن حالال و حرام کے درمیان ایسی چیزیں ہیں جو دونوں سے ملتی ہیں یعنی اس میں شبہ ہے ان کو بہت لوگ نہیں جانتے تو جو شہبوں سے بچا وہ اپنے دین اور آبرو کو سلامت لے گیا اور جو شبہوں میں پڑا وہ آخر حرام میں بھی پڑا جیسے وہ چرانے والا کہ «رمنا» یعنی روکی ہوئی زمین کے آس پاس چراتا ہے اس کے جانور «رمنا» کو بھی چر جائیں گے۔ خبردار رہو ہر بادشاہ کا ایک «رمنا» ہوتا ہے خبردار رہو اللہ تعالیٰ کا «رمنا» اس کی حرام کی ہوئی چیزیں ہیں جان رکھو بیشک بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے اگر وہ سنور گیا تو سارا بدن سنور گیا اور جو وہ بگڑ گیا تو سارا بدن بگڑ گیا یاد رکھو وہ ٹکڑا دل ہے۔

صحيح مسلم # 4094
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp