كِتَاب الْمُسَاقَاةِ سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا

حدثنا الحكم بن موسى ، حدثنا هقل ، عن الاوزاعي ، قال: حدثني عطاء بن ابي رباح : ان ابا سعيد الخدري لقي ابن عباس ، فقال له: ارايت قولك في الصرف اشيئا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم ام شيئا وجدته في كتاب الله عز وجل، فقال ابن عباس: كلا لا اقول اما رسول الله صلى الله عليه وسلم، فانتم اعلم به واما كتاب الله فلا اعلمه، ولكن حدثني اسامة بن زيد ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " الا إنما الربا في النسيئة ".

‏‏‏‏ عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملے اور ان سے پوچھا: تم جو «بيع صرف» کے باب میں کہتے ہو، تو کیا تم نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، یا اللہ تعالیٰ کے کلام مجید میں پایا ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہرگز نہیں میں تم سے نہ کہوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو تم مجھ سے زیادہ جانتے ہو اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کو میں نہیں جانتا (یہ عاجزی کے طور پر کہا) لیکن مجھ سے حدیث بیان کی اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: سود ادھار میں ہے۔

صحيح مسلم # 4091
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp