كِتَاب الْمُسَاقَاةِ سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا

حدثني إسحاق بن منصور ، حدثنا عبيد الله بن موسى ، عن شيبان ، عن يحيى ، عن ابي سلمة ، عن ابي سعيد ، قال: " كنا نرزق تمر الجمع على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو الخلط من التمر، فكنا نبيع صاعين بصاع، فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: لا صاعي تمر بصاع، ولا صاعي حنطة بصاع ولا درهم بدرهمين ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم کو جمع کھجور ملا کرتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں، اور اس میں سب کھجوریں ملی رہتی تھیں تو ہم دو صاع اس کے ایک صاع کے بدلے بیچتے تھے یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھجور کے دو صاع ایک صاع کے بدلے نہ بیچنا چاہیے اسی طرح گیہوں کے دو صاع ایک صاع کے بدلے اور ایک درہم دو درہم کے بدلے نہ بیچنا چاہیے۔

صحيح مسلم # 4085
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp