كِتَاب الْمُسَاقَاةِ سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا

حدثنا إسحاق بن منصور ، اخبرنا يحيى بن صالح الوحاظي ، حدثنا معاوية ح، وحدثني محمد بن سهل التميمي ، وعبد الله بن عبد الرحمن الدارمي واللفظ لهما جميعا، عن يحيى بن حسان ، حدثنا معاوية وهو ابن سلام ، اخبرني يحيى وهو ابن ابي كثير ، قال: سمعت عقبة بن عبد الغافر ، يقول: سمعت ابا سعيد ، يقول: " جاء بلال بتمر برني، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: من اين هذا؟ فقال بلال: تمر كان عندنا رديء، فبعت منه صاعين بصاع لمطعم النبي صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله عند ذلك: اوه عين الربا لا تفعل ولكن إذا اردت ان تشتري التمر، فبعه ببيع آخر ثم اشتر به "، لم يذكر ابن سهل في حديثه عند ذلك.

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ «برني» (ایک عمدہ قسم ہے) کھجور لے کر آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہاں سے لائے؟ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس خراب قسم کی کھجور تھی تو دو صاع اس کے دے کر میں نے ایک صاع اس کا آپ کے کھانے کے لیے خریدا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس! یہ تو عین سود ہے ایسا مت کر لیکن جب تو کھجور خریدنا چاہے تو اپنی کھجور بیچ ڈال پھر اس کی قیت کے بدلے دوسری کھجور خرید لے۔

صحيح مسلم # 4083
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp