كِتَاب الْمُسَاقَاةِ سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا

حدثني ابو الطاهر ، اخبرنا ابن وهب ، عن قرة بن عبد الرحمن المعافري وعمرو بن الحارث ، وغيرهما، ان عامر بن يحيى المعافري ، اخبرهم، عن حنش : انه قال: " كنا مع فضالة بن عبيد في غزوة فطارت لي ولاصحابي قلادة فيها ذهب وورق وجوهر، فاردت ان اشتريها، فسالت فضالة بن عبيد ، فقال: انزع ذهبها فاجعله في كفة واجعل ذهبك في كفة ثم لا تاخذن إلا مثلا بمثل، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا ياخذن إلا مثلا بمثل ".

‏‏‏‏ حنش سے روایت ہے، میں فضالہ بن عبید کے ساتھ تھا ایک جہاد میں تو میرے اور میرے یاروں کے حصے میں ایک ہار آیا جس میں سونا اور چاندی اور جواہر سب تھے، میں نے اس کو خریدنا چاہا اور فضالہ سے پوچھا، انہوں نے کہا: اس کا سونا جدا کر کے ایک پلڑے میں رکھ اور اپنا اور اپنا سونا ایک پلڑے میں پھر نہ لے مگر برابر برابر کیونکہ میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماتے تھے: جو شخص ایمان رکھتا ہے اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر وہ نہ لے مگر برابر برابر۔

صحيح مسلم # 4079
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp