كِتَاب الْمُسَاقَاةِ سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا

حدثنا حدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة ، عن عبد الملك بن عمير ، عن ربعي بن حراش ، عن حذيفة ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، " ان رجلا مات، فدخل الجنة، فقيل له: ما كنت تعمل؟ قال: فإما ذكر، وإما ذكر، فقال: إني كنت ابايع الناس، فكنت انظر المعسر، واتجوز في السكة، او في النقد، فغفر له "، فقال ابو مسعود : وانا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم.

‏‏‏‏ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص مر گیا۔ پھر وہ جنت میں گیا اس سے پوچھا گیا: تو کیا عمل کرتا تھا؟ سو اس نے خود کو یاد کیا یا یاد دلایا گیا۔ اس نے کہا: میں (دنیا میں) مال بیچتا تھا تو مفلس کو مہلت دیتا اور سکہ یا نقد میں درگزر کرتا (اس کے نقصان یا عیب سے اور قبول کر لیتا) اس وجہ سے اس کی بخشش ہو گئی۔ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اس کو سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

صحيح مسلم # 3995
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp