كِتَاب الْمُسَاقَاةِ سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا

حدثنا حدثنا علي بن حجر ، وإسحاق بن إبراهيم ، واللفظ لابن حجر، قالا: حدثنا جرير ، عن المغيرة ، عن نعيم بن ابي هند ، عن ربعي بن حراش ، قال: اجتمع حذيفة، وابو مسعود، فقال حذيفة : " رجل لقي ربه، فقال: ما عملت؟ قال: ما عملت من الخير، إلا اني كنت رجلا ذا مال، فكنت اطالب به الناس، فكنت اقبل الميسور، واتجاوز عن المعسور، فقال: تجاوزوا عن عبدي "، قال ابو مسعود : هكذا سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول.

‏‏‏‏ ربعی بن حراش سے روایت ہے، حذیفہ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں ملے تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک شخص ملا اپنے پروردگار سے تو پروردگار نے پوچھا: تو نے کیا عمل کیا ہے؟ وہ بولا: میں نے کوئی نیکی نہیں کی۔ مگر یہ کہ میں مالدار شحص تھا، تو لوگوں سے اپنا قرض مانگتا، جو مالدار ہوتا اس کے کہنے کے موافق میں بیع کو توڑ ڈالتا۔ (یعنی جس معاملہ میں اس کو نقصان معلوم ہوتا اور وہ یہ چاہتا کہ معاملہ فسخ ہو جائے تو میں فسخ کر ڈالتا اپنے نفع کے لیے اس کا نقصان گوارہ نہیں کرتا) اور جو مفلس ہوتا اس کو معاف کر دیتا تو پروردگار نے فرمایا (فرشتوں سے): تم بھی درگزر کرو میرے بندے سے۔ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہی سنا ہے۔

صحيح مسلم # 3994
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp