حدثنا حدثنا احمد بن عبد الله بن يونس ، حدثنا زهير ، حدثنا منصور ، عن ربعي بن حراش ، ان حذيفة ، حدثهم، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " تلقت الملائكة روح رجل ممن كان قبلكم، فقالوا: اعملت من الخير شيئا؟ قال: لا، قالوا: تذكر، قال: كنت اداين الناس، فآمر فتياني: ان ينظروا المعسر، ويتجوزوا عن الموسر، قال: قال الله عز وجل: تجوزوا عنه ".
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے تم سے پہلے کے ایک شخص کی روح لے چلے تو اس سے پوچھا: تو نے کوئی نیک کام کیا ہے وہ بولا: نہیں۔ فرشتوں نے کہا: یاد کرو وہ بولا: میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا پھر اپنے جوانوں کو حکم کرتا کہ جو شخص مفلس ہو اس کو مہلت دو، اس پر تقاضا نہ کرو اور جو شخص مالدار ہو اس پر آسانی کرو (نرمی کرو یا تھوڑے سے نقصان پر خیال نہ کرو۔ مثلاً روپیہ ٹوٹا یا پھوٹا ہو تو لے لو بہت سختی نہ کرو) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”تم بھی اس پر آسانی کرو۔“ (اور اس کے گناہوں سے درگزر کرو)۔