كِتَاب الْمُسَاقَاةِ سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا

حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا ليث ، عن بكير ، عن عياض بن عبد الله ، عن ابي سعيد الخدري ، قال: اصيب رجل في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثمار ابتاعها، فكثر دينه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " تصدقوا عليه "، فتصدق الناس عليه، فلم يبلغ ذلك وفاء دينه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لغرمائه: " خذوا ما وجدتم وليس لكم إلا ذلك ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں میوہ درخت پر خریدا اور اس پر قرض بہت ہو گیا (میوہ کے تلف ہو جانے سے یا اور کسی وجہ سے) تبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو صدقہ دو۔ لوگوں نے اسے صدقہ دیا تب بھی اس کا قرض پورا نہیں ہوا۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قرض خواہوں سے فرمایا: بس اب جو مل گیا سو لے لو اب کچھ نہیں ملے گا۔

صحيح مسلم # 3981
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp