كِتَاب الْمُسَاقَاةِ سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا

حدثنا يحيى بن ايوب ، وقتيبة ، وعلي بن حجر ، قالوا: حدثنا إسماعيل بن جعفر ، عن حميد ، عن انس : ان النبي صلى الله عليه وسلم: " نهى عن بيع ثمر النخل حتى تزهو "، فقلنا لانس: ما زهوها؟ قال: تحمر، وتصفر، ارايتك إن منع الله الثمرة، بم تستحل مال اخيك؟.

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا کھجور کی بیع سے درخت پر جب تک وہ رنگ نہ پکڑے۔ حمید نے کہا: ہم لوگوں نے پوچھا رنگ پکڑنے کے کیا معنی؟ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: لال یا پیلا نہ ہو۔ بھلا تو دیکھ اگر اللہ تعالیٰ روک لے پھلوں کو (یعنی وہ نہ بڑھیں اور تلف ہو جائیں) تو تو کس چیز کے بدل اپنے بھائی کا مال حلال کرے گا؟

صحيح مسلم # 3977
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp