كِتَاب الْمُسَاقَاةِ سیرابی اور نگہداشت کے عوض پھل وغیرہ میں حصہ داری اور زمین دے کر بٹائی پر کاشت کرانا

حدثنا احمد بن سعيد بن إبراهيم ، حدثنا روح بن عبادة ، حدثنا زكرياء بن إسحاق ، اخبرني عمرو بن دينار ، انه سمع جابر بن عبد الله ، يقول: دخل النبي صلى الله عليه وسلم على ام معبد حائطا، فقال: " يا ام معبد، من غرس هذا النخل امسلم ام كافر؟ "، فقالت: بل مسلم، قال: " فلا يغرس المسلم غرسا، فياكل منه إنسان، ولا دابة، ولا طير، إلا كان له صدقة إلى يوم القيامة ".

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام معبد کے باغ میں گئے اور فرمایا: اے ام معبد! یہ درخت کھجور کے کس نے لگائے؟ مسلمان نے یا کافر نے؟ وہ بولیں مسلمان نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مسلمان تو کوئی درخت لگائے اس میں سے کوئی آدمی یا چوپایہ یا پرندہ کچھ کھائے تو اس کے صدقے کا ثواب ملے گا قیامت کے دن تک۔

صحيح مسلم # 3971
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp