حدثنا حدثنا عمرو الناقد ، حدثنا سفيان بن عيينة ، عن يحيى بن سعيد ، عن حنظلة الزرقي ، انه سمع رافع بن خديج ، يقول: كنا اكثر الانصار حقلا، قال: " كنا نكري الارض على ان لنا هذه ولهم هذه، فربما اخرجت هذه، ولم تخرج هذه، فنهانا عن ذلك، واما الورق، فلم ينهنا "،
حنظلہ زرقی سے روایت ہے، انہوں نے سنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے، وہ کہتے تھے، تمام انصار میں ہمارے یہاں محاقلہ زیادہ تھا ہم زمین کو کرایہ پر دیتے یہ کہہ کر کہ یہاں کی پیداوار ہم لیں گے اور تم یہاں کی لینا پھر کبھی یہاں اگتا وہاں نہ اگتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہم کو اس سے لیکن چاندی کے بدل کرایہ پر دینا تو اس سے منع نہیں کیا۔