حدثنا يحيى بن يحيى ، قال: قرات على مالك ، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن ، عن حنظلة بن قيس ، انه سال رافع بن خديج : عن كراء الارض، فقال: " نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كراء الارض "، قال: فقلت: ابالذهب والورق؟، فقال: اما بالذهب والورق، فلا باس به.
حنظلہ بن قیس نے رافع بن خدیج سے پوچھا: زمین کو کرایہ پر چلانا کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرایہ پر دینے سے، میں نے کہا: کیا چاندی اور سونے کے عوض میں بھی کرایہ دینا منع ہے؟ انہوں نے کہا: چاندی اور سونے کے بدل تو قباحت نہیں۔