كِتَاب الْبُيُوعِ لین دین کے مسائل

حدثنا يحيى بن يحيى ، قال: قرات على مالك ، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن ، عن حنظلة بن قيس ، انه سال رافع بن خديج : عن كراء الارض، فقال: " نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كراء الارض "، قال: فقلت: ابالذهب والورق؟، فقال: اما بالذهب والورق، فلا باس به.

‏‏‏‏ حنظلہ بن قیس نے رافع بن خدیج سے پوچھا: زمین کو کرایہ پر چلانا کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرایہ پر دینے سے، میں نے کہا: کیا چاندی اور سونے کے عوض میں بھی کرایہ دینا منع ہے؟ انہوں نے کہا: چاندی اور سونے کے بدل تو قباحت نہیں۔

صحيح مسلم # 3951
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp