كِتَاب الْبُيُوعِ لین دین کے مسائل

حدثني إسحاق بن منصور ، اخبرنا ابو مسهر ، حدثني يحيى بن حمزة ، حدثني ابو عمرو الاوزاعي ، عن ابي النجاشي مولى رافع بن خديج، عن رافع : ان ظهير بن رافع ، وهو عمه، قال: اتاني ظهير، فقال: لقد نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن امر كان بنا رافقا، فقلت: وما ذاك؟ ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فهو حق، قال: سالني كيف تصنعون بمحاقلكم؟ فقلت: نؤاجرها يا رسول الله، على الربيع، او الاوسق من التمر، او الشعير، قال: " فلا تفعلوا، ازرعوها، او ازرعوها، او امسكوها ".

‏‏‏‏ رافع سے روایت ہے، ظہیر بن رافع نے ان سے ایک حدیث بیان کی اور ظہیر رافع کے چچا تھے۔ رافع نے کہا: ظہیر بن رافع میرے پاس آئے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ایسے کام سے جس میں ہمارا فائدہ تھا۔ میں نے کہا: وہ کیا ہے؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا وہ حق ہے۔ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا:تم اپنے کھیتوں کو کیا کرتے ہو۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کو کرایہ پر چلاتے ہیں اور وہ کرایہ یہ ہے کہ نہر پر جو پیداوار ہو اس کو لیتے ہیں یا چند وسق کھجور کے یا جو کے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ایسا مت کرو یا تم خود ان میں کھیتی کرو یا دوسروں کو کھیتی کے لئے دو بلا کرایہ یا یوں ہی رہنے دو۔

صحيح مسلم # 3949
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp