وحدثني علي بن حجر السعدي ، ويعقوب بن إبراهيم ، قالا: حدثنا إسماعيل وهو ابن علية ، عن ايوب ، عن يعلى بن حكيم ، عن سليمان بن يسار ، عن رافع بن خديج ، قال: كنا نحاقل الارض على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فنكريها بالثلث، والربع، والطعام المسمى، فجاءنا ذات يوم رجل من عمومتي ، فقال: " نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن امر كان لنا نافعا وطواعية الله ورسوله انفع لنا، نهانا ان نحاقل بالارض، فنكريها على الثلث، والربع، والطعام المسمى، وامر رب الارض ان يزرعها، او يزرعها، وكره كراءها وما سوى ذلك ".
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ہم محاقلہ کیا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تو کرایہ پر دیتے زمین کو ثلث اور ربع پیدوار پر اور معین اناج کے اوپر۔ ایک روز ہمارے پاس کوئی چچاؤں میں سے آیا اور کہنے لگا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہم کو اس کام سے جس میں ہمارا فائدہ تھا لیکن اللہ اور اس کے رسول کی خوشی میں ہم کو زیادہ فائدہ ہے، منع کیا ہم کو محاقلہ سے یعنی زمین کو کرایہ پر چلانے سے ثلث یا ربع پیداوار پر اور حکم فرمایا:”زمین کا مالک خود اس میں کھیتی کرے یا دوسرے کو کھیتی کے لیے دے“ اور برا جانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کرایہ پر دینا یا اور کسی طرح پر۔