كِتَاب الْبُيُوعِ لین دین کے مسائل

وحدثني عبد الملك بن شعيب بن الليث بن سعد ، حدثني ابي ، عن جدي ، حدثني عقيل بن خالد ، عن ابن شهاب ، انه قال: اخبرني سالم بن عبد الله ، ان عبد الله بن عمر ، كان يكري ارضيه حتى بلغه ان رافع بن خديج الانصاري كان ينهى عن كراء الارض، فلقيه عبد الله، فقال: يا ابن خديج، ماذا تحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في كراء الارض؟ قال رافع بن خديج ، لعبد الله: سمعت عمي ، وكانا قد شهدا بدرا، يحدثان اهل الدار: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم: " نهى عن كراء الارض "، قال عبد الله: لقد كنت اعلم في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ان الارض تكرى، ثم خشي عبد الله: ان يكون رسول الله صلى الله عليه وسلم احدث في ذلك شيئا لم يكن علمه، فترك كراء الارض.

‏‏‏‏ سالم بن عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمینوں کو کرایہ پر دیا کرتے تھے یہاں تک کہ ان کو خبر پہنچی کہ سیدنا رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ اس سے منع کرتے ہیں تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ان سے ملے اور کہا: اے خدیج کے بیٹے! تم کیا حدیث بیان کرتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زمین کے کرایہ پر دینے میں۔ رافع بن خدیج نے کہا: میں نے اپنے دونوں چچاؤں سے سنا اور وہ بدر کی لڑائی میں شریک تھے وہ گھر والوں سے حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا زمین کو کرایہ پر دینے سے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جانتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں زمین کرایہ پر دی جاتی تھی، پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ڈرے ایسا نہ ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باب میں کوئی نیا حکم دیا ہو جس کی خبر ان کو نہ ہوئی ہو تو انہوں نے چھوڑ دیا زمین کو کرایہ پر دینا۔

صحيح مسلم # 3944
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp