وحدثنا يحيى بن يحيى ، اخبرنا يزيد بن زريع ، عن ايوب ، عن نافع : " ان ابن عمر كان يكري مزارعه على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، وفي إمارة ابي بكر، وعمر، وعثمان، وصدرا من خلافة معاوية، حتى بلغه في آخر خلافة معاوية، ان رافع بن خديج ، يحدث فيها بنهي عن النبي صلى الله عليه وسلم، فدخل عليه، وانا معه فساله، فقال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ينهى عن كراء المزارع "، فتركها ابن عمر بعد، وكان إذا سئل عنها بعد قال: زعم رافع بن خديج : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عنها.
نافع سے روایت ہے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی مزارعہ کرایہ پر دیا کرتے تھے (لوگوں کو کھیتی کے لیے اور ان سے کرایہ لیتے زمین کا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور سیدنا ابوبکر اور عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے زمانہ خلافت میں اور شروع معاویہ کی خلافت میں یہاں تک کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی اخیر خلافت میں ان کو خبر پہنچی کہ رافع بن خدیج اس کی ممانعت بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ تو وہ گئے ان کے پاس میں بھی ساتھ تھا اور ان سے پوچھا۔ رافع نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع کرتے تھے مزارعوں کو کرایہ پر دینے سے۔ یہ سن کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کرایہ پر دینا چھوڑ دیا، پھر جب کوئی اس کے بعد ان سے پوچھتا (اس مسئلہ کو) تو وہ کہتے: خدیج کے بیٹے نے یہ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے اس سے۔