كِتَاب الْبُيُوعِ لین دین کے مسائل

وحدثني حجاج بن الشاعر ، حدثنا عبيد الله بن عبد المجيد ، حدثنا سليم بن حيان ، حدثنا سعيد بن ميناء ، قال: سمعت جابر بن عبد الله ، يقول: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " من كان له فضل ارض، فليزرعها، او ليزرعها اخاه، ولا تبيعوها "، فقلت لسعيد: ما قوله: ولا تبيعوها: يعني الكراء، قال: نعم.

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس فاضل زمین ہو وہ اس میں کھیتی کرے یا اپنے بھائی کو کھیتی کے لئے دے اور نہ بیچو اس کو۔ سلیم بن حیان نے کہا: میں نے سعید بن مینا سے پوچھا: بیچنے سے کیا مراد ہے کیا کرائے پر چلانا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔

صحيح مسلم # 3923
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp