كِتَاب الْبُيُوعِ لین دین کے مسائل

حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا ليث . ح وحدثني محمد بن رمح ، اخبرنا الليث ، عن نافع ، عن عبد الله ، قال: " نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المزابنة ان يبيع ثمر حائطه، إن كانت نخلا بتمر كيلا، وإن كان كرما ان يبيعه بزبيب كيلا، وإن كان زرعا ان يبيعه بكيل طعام، نهى عن ذلك كله "، وفي رواية قتيبة: او كان زرعا.

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے اور وہ یہ ہے کہ اپنے باغ کا پھل اگر کھجور ہو تو خشک کھجور کے بدلے بیچے ماپ سے اور جو انگور ہو تو سوکھے انگور کے بدلے بیچے ماپ سے اور جو کھیت ہو تو سوکھے اناج کے بدلے بیچے ماپ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب سے منع کیا۔ (کیونکہ سب میں احتمال ہے کمی اور بیشی کا)۔

صحيح مسلم # 3899
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp