كِتَاب الْبُيُوعِ لین دین کے مسائل

حدثني علي بن حجر السعدي ، وزهير بن حرب ، قالا: حدثنا إسماعيل وهو ابن إبراهيم ، عن ايوب ، عن نافع ، عن ابن عمر : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم: " نهى عن: المزابنة، والمزابنة: ان يباع ما في رءوس النخل بتمر بكيل مسمى، إن زاد فلي، وإن نقص فعلي ".

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا مزابنہ سے اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت پر کھجور خشک کھجور کے بدلے بیچی جائے یعنی خشک کھجور کے ماپ معین ہوں (مثلاً چار صاع یا پانچ صاع خشک کھجور کے بدلے) اور خریدار یہ کہے کہ درخت والی کھجور اگر زیادہ نکلیں تو میری ہیں اور جو کم نکلیں تو میرا ہی نقصان ہو گا۔

صحيح مسلم # 3897
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp