حدثني علي بن حجر السعدي ، وزهير بن حرب ، قالا: حدثنا إسماعيل وهو ابن إبراهيم ، عن ايوب ، عن نافع ، عن ابن عمر : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم: " نهى عن: المزابنة، والمزابنة: ان يباع ما في رءوس النخل بتمر بكيل مسمى، إن زاد فلي، وإن نقص فعلي ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا مزابنہ سے اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت پر کھجور خشک کھجور کے بدلے بیچی جائے یعنی خشک کھجور کے ماپ معین ہوں (مثلاً چار صاع یا پانچ صاع خشک کھجور کے بدلے) اور خریدار یہ کہے کہ درخت والی کھجور اگر زیادہ نکلیں تو میری ہیں اور جو کم نکلیں تو میرا ہی نقصان ہو گا۔