كِتَاب الْبُيُوعِ لین دین کے مسائل

وحدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي ، حدثنا سليمان يعني ابن بلال ، عن يحيى وهو ابن سعيد ، عن بشير بن يسار ، عن بعض اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم من اهل دارهم منهم سهل بن ابي حثمة ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم: " نهى عن بيع الثمر بالتمر، وقال: ذلك الربا، تلك المزابنة "، إلا انه رخص في بيع العرية النخلة والنخلتين، ياخذها اهل البيت بخرصها تمرا ياكلونها رطبا ".

‏‏‏‏ بشیر بن یسار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ سے روایت کیا جو ان کے گھر میں رہتے تھے ان میں سے ایک سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا درخت پر لگی ہوئی کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنے سے اور فرمایا: یہی سود ہے، یہی مزابنہ ہے۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی عریہ کو بیع میں ایک درخت یا دو درخت کی کھجور کوئی گھر والا (اپنے بال بچوں کے کھانے کے لیے) خریدے اور اس کے بدلے اندازے سے خشک کھجور دے تر کھجور کھانے کو۔

صحيح مسلم # 3887
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp