وحدثني زهير بن حرب ، وابن ابي عمر ، كلاهما عن سفيان، قال زهير حدثنا سفيان بن عيينة ، عن ابن جريج ، قال: املى علي نافع ، سمع عبد الله بن عمر ، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا تبايع المتبايعان بالبيع، فكل واحد منهما بالخيار من بيعه ما لم يتفرقا، او يكون بيعهما عن خيار، فإذا كان بيعهما، عن خيار، فقد وجب "، زاد ابن ابي عمر في روايته: قال نافع: كان إذا بايع رجلا فاراد ان لا يقيله قام، فمشى هنية ثم رجع إليه.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو آدمی خرید اور فروخت کریں آپس میں تو ہر ایک کو اختیار رہے گا جب تک جدا نہ ہوں یا ان کی بیع بشرط خیار ہو پھر اگر بیع کو اختیار کریں تب بیع لازم ہو جائے گی۔“ ابن ابی عمر کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ نافع نے کہا: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب بیع کرتے کسی شخص سے اور یہ منظور ہوتا کہ معاملہ فسخ نہ ہو تو تھوڑی دور چلے جاتے (بیع کے بعد تاکہ جدائی ہو جائے) پھر لوٹ آتے اس کے پاس۔