وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا حسين بن علي ، عن زائدة ، عن سماك ، عن عبد الرحمن بن القاسم ، عن ابيه ، عن عائشة ، انها اشترت بريرة من اناس من الانصار واشترطوا الولاء، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الولاء لمن ولي النعمة "، وخيرها رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان زوجها عبدا، واهدت لعائشة لحما، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لو صنعتم لنا من هذا اللحم "، قالت عائشة: تصدق به على بريرة، فقال: " هو لها صدقة ولنا هدية ".
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے بریرہ کو خریدا انصار کے لوگوں سے اور اس کے مالکوں نے ولاء کی شرط کر لی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء اسی کو ملے گی جو والی ہو نعمت کا۔“ (یعنی آزاد کرے) اور اختیار دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے خاوند کے مقدمہ میں اس کا خاوند غلام تھا اور بریرہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے گوشت کا حصہ بھیجا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش ہمارے لیے بھی اس میں سے تھوڑا گوشت بناتیں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ گوشت صدقہ ملا ہے بریرہ کو (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صدقہ حرام ہے۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بریرہ پر صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“ (تو ہم پر اس کا کھانا درست ہے)۔