حدثني ابو الطاهر ، اخبرنا ابن وهب ، اخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، عن عروة بن الزبير ، عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها، قالت: جاءت بريرة إلي، فقالت: يا عائشة، إني كاتبت اهلي على تسع اواق في كل عام اوقية بمعنى حديث الليث، وزاد فقال: لا يمنعك ذلك منها ابتاعي واعتقي، وقال في الحديث، ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم في الناس، فحمد الله واثنى عليه، ثم قال: اما بعد.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے بریرہ رضی اللہ عنہا میرے پاس آئی اور کہنے لگی: اے عائشہ! میں نے اپنے مالکوں سے کتابت کی ہے نو اوقیہ پر ہر برس میں ایک اوقیہ (چالیس درھم) اسی طرح جیسے اوپر گزرا اس روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”ان کے کہنے سے تو اپنے ارادے سے باز مت رہ۔ خرید لے اور آزاد کر دے۔“ اس روایت میں یہ ہے کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے لوگوں میں اور اللہ تعالیٰ کی تعریف کی اور اس کی ستائش کی۔ بعد اس کے فرمایا: ”کیا حال ہے لوگوں کا۔“ اخیر تک۔