كِتَاب اللِّعَانِ لعان کا بیان

حدثني عبيد الله بن عمر القواريري ، وابو كامل فضيل بن حسين الجحدري ، واللفظ لابي كامل، قالا: حدثنا ابو عوانة ، عن عبد الملك بن عمير ، عن وراد كاتب المغيرة، عن المغيرة بن شعبة ، قال: قال سعد بن عبادة : لو رايت رجلا مع امراتي لضربته بالسيف غير مصفح عنه، فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: " اتعجبون من غيرة سعد؟ فوالله لانا اغير منه، والله اغير مني، من اجل غيرة الله حرم الفواحش ما ظهر منها وما بطن، ولا شخص اغير من الله، ولا شخص احب إليه العذر من الله، من اجل ذلك بعث الله المرسلين مبشرين ومنذرين، ولا شخص احب إليه المدحة من الله، من اجل ذلك وعد الله الجنة ".

‏‏‏‏ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں اپنی بی بی کے پاس کسی مرد کو دیکھوں تو تلوار سے مار ڈالوں کبھی نہ چھوڑوں۔ یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سعد کی غیرت سے تعجب کرتے ہو۔ اللہ کی قسم! میں ان سے زیادہ غیرت دار ہوں اور اللہ جلالہ مجھ سے زیادہ غیرت دار ہے۔ حرام کیا اللہ نے بے شرمی کی باتوں کو چھپی اور کھلی اسی غیرت کی وجہ سے اور کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت دار نہیں ہے اور اللہ سے زیادہ کسی شخص کو عذر پسند نہیں ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں علیہم السلام کو بھیجا خوشی اور ڈر سناتے ہوئے (تاکہ بندے سزا سے پہلے اس کی درگاہ میں عذر کر لیں اور توبہ کریں) اور کسی شخص کو اللہ سے زیادہ تعریف پسند نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا جنت کا۔ (تاکہ بندے اس کی عبادت اور تعریف کر کے جنت حاصل کر لیں)۔

صحيح مسلم # 3764
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp