وحدثنا محمد بن رمح بن المهاجر ، وعيسى بن حماد المصريان، واللفظ لابن رمح، قالا: اخبرنا الليث ، عن يحيي بن سعيد ، عن عبد الرحمن بن القاسم ، عن القاسم بن محمد ، عن ابن عباس ، انه قال: ذكر التلاعن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: عاصم بن عدي في ذلك قولا ثم انصرف، فاتاه رجل من قومه يشكو إليه انه وجد مع اهله رجلا، فقال عاصم: ما ابتليت بهذا إلا لقولي، فذهب به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاخبره بالذي وجد عليه امراته، وكان ذلك الرجل مصفرا قليل اللحم سبط الشعر، وكان الذي ادعى عليه انه وجد عند اهله خدلا آدم كثير اللحم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اللهم بين، فوضعت شبيها بالرجل الذي ذكر زوجها انه وجده عندها، فلاعن رسول الله صلى الله عليه وسلم بينهما "، فقال رجل لابن عباس في المجلس: اهي التي قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لو رجمت احدا بغير بينة رجمت هذه؟ فقال ابن عباس: لا تلك امراة كانت تظهر في الإسلام السوء.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لعان کا ذکر ہوا، عاصم بن عدی نے اس میں کچھ کہا، پھر وہ چلئےگئے۔ تب ان کے پاس ان کی قوم کا ایک شخص آیا اور شکایت کرنے لگا کہ اس نے اپنی بی بی کے ساتھ ایک مرد کو دیکھا عاصم نے کہا: میں اس بلا میں مبتلا ہوا اپنی بات کی وجہ سے، پھر سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ اس کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ اور اس شخص نے سارا حال آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا وہ شخص زرد رنگ، دبلا، سیدھے بال والا تھا اور جس پر دعوٰی کرتا تھا وہ پرگوشت پنڈلیوں والا، گندم رنگ، موٹا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تو کھول دے۔“ پھر وہ عورت بچہ جنی جو مشابہ تھا اس شخص کے جس پر تہمت تھی۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کروایا ان دونوں میں۔ ایک شخص بولا: اے ابن عباس! کیا یہ عورت وہی عورت تھی جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اگر میں کسی کو بغیر گواہوں کے سنگسار کرتا تو اس عورت کو کرتا۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نہیں وہ دوسری عورت تھی جو مسلمانوں میں برائی کے ساتھ مشہور تھی۔ (یعنی لوگ کہتے تھےکہ یہ فاحشہ ہے، (نہ گواہ تھے، نہ اقرار تھا)۔