كِتَاب اللِّعَانِ لعان کا بیان

وحدثنا يحيي بن يحيي ، وابو بكر بن ابي شيبة ، وزهير بن حرب ، واللفظ ليحيى، قال يحيي: اخبرنا، وقال الآخران: حدثنا سفيان بن عيينة ، عن عمرو ، عن سعيد بن جبير ، عن ابن عمر ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " للمتلاعنين حسابكما على الله، احدكما كاذب لا سبيل لك عليها "، قال: يا رسول الله، مالي؟ قال: " لا مال لك، إن كنت صدقت عليها، فهو بما استحللت من فرجها، وإن كنت كذبت عليها، فذاك ابعد لك منها ". قال زهير في روايته: حدثنا سفيان، عن عمرو، سمع سعيد بن جبير، يقول: سمعت ابن عمر، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم.

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لعان کرنے والوں کو، دونوں کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاوند سے فرمایا: اب تیرا کوئی بس عورت پر نہیں کیونکہ وہ تجھ سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئی۔ مرد بولا: میرا مال یا رسول اللہ! جو اس نے لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مال تجھ کو نہیں ملے گا کیونکہ اگر تو سچا ہے تو مال کا بدلہ ہے جو اس کی فرج تجھ پر حلال ہو گئی اور اگر تو جھوٹا ہے تو مال اور دور ہو گیا۔ (بلکہ تیرے اوپر اور وبال ہوا جھوٹ کا)۔

صحيح مسلم # 3748
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp