وحدثنا محمد بن رافع ، حدثنا عبد الرزاق ، اخبرنا ابن جريج ، اخبرني ابن شهاب ، عن المتلاعنين، وعن السنة فيهما، عن حديث سهل بن سعد اخي بني ساعدة، ان رجلا من الانصار جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، ارايت رجلا وجد مع امراته رجلا، وذكر الحديث بقصته، وزاد فيه، فتلاعنا في المسجد وانا شاهد، وقال في الحديث: فطلقها ثلاثا قبل ان يامره رسول الله صلى الله عليه وسلم، ففارقها عند النبي صلى الله عليه وسلم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ذاكم التفريق بين كل متلاعنين.
ابن جریج سے روایت ہے کہا کہ مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا متلاعنین کا حال اور ان کا طریقہ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث سے جو بنی ساعدہ میں سے تھا اس نے کہا: انصار میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کیا سمجھتے ہیں اگر کوئی شخص اپنی جورو کے ساتھ کسی مرد کو دیکھے اور بیان کیا سارا قصہ حدیث کا اور اتنا زیادہ کیا کہ پھر دونوں نے لعان کیا مسجد کے اندر اور میں موجود تھا اور اس روایت میں یہ بھی ہے کہ اس شخص نے طلاق دی تین بار اپنی عورت کو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کرنے سے پہلے۔ پھر وہ جدا ہو گیا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی جدائی ہے درمیان لعان کرنے والوں کے۔“