وحدثني حرملة بن يحيي ، اخبرنا ابن وهب ، اخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، اخبرني سهل بن سعد الانصاري ، ان عويمرا الانصاري من بني العجلان، اتى عاصم بن عدي، وساق الحديث بمثل حديث مالك، وادرج في الحديث قوله وكان فراقه إياها بعد سنة في المتلاعنين وزاد فيه، قال سهل: فكانت حاملا فكان ابنها يدعى إلى امه، ثم جرت السنة انه يرثها وترث منه ما فرض الله لها.
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سیدنا عویمر انصاری رضی اللہ عنہ، جو بنی عجلان میں سے تھا، سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا پھر بیان کیا حدیث کو اخیر تک اسی طرح جیسے اوپر گزری اور حدیث میں ابن شہاب کا قول بھی شریک کر دیا کہ پھر جدائی مرد کی عورت سے سنت ہو گئی لعان کرنے والوں میں اور اتنا زیادہ کیا کہ سیدنا سہیل رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ عورت حاملہ تھی اس کے بیٹے کو ماں کی طرف نسبت کر کے پکارتے پھر یہ طریقہ جاری ہوا کہ ایسا لڑکا اپنی ماں کا وارث ہو گا اور وہ اس کی وارث ہو گی اپنے حصہ کے موافق۔“