كِتَاب اللِّعَانِ لعان کا بیان

وحدثنا يحيي بن يحيي ، قال: قرات على مالك ، عن ابن شهاب : ان سهل بن سعد الساعدي ، اخبره: ان عويمرا العجلاني جاء إلى عاصم بن عدي الانصاري، فقال له: ارايت يا عاصم، لو ان رجلا وجد مع امراته رجلا ايقتله، فتقتلونه ام كيف يفعل؟ فسل لي عن ذلك يا عاصم، رسول الله صلى الله عليه وسلم، فسال عاصم رسول الله صلى الله عليه وسلم، فكره رسول الله صلى الله عليه وسلم المسائل وعابها، حتى كبر على عاصم، وما سمع من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما رجع عاصم إلى اهله جاءه عويمر، فقال: يا عاصم، ماذا قال لك رسول الله صلى الله عليه وسلم؟، قال عاصم: لعويمر: لم تاتني بخير قد كره رسول الله صلى الله عليه وسلم المسالة التي سالته عنها، قال عويمر: والله لا انتهي حتى اساله عنها، فاقبل عويمر حتى اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم وسط الناس فقال: يا رسول الله، ارايت رجلا وجد مع امراته رجلا ايقتله، فتقتلونه ام كيف يفعل؟، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " قد نزل فيك وفي صاحبتك، فاذهب فات بها "، قال سهل: فتلاعنا وانا مع الناس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما فرغا، قال عويمر: كذبت عليها يا رسول الله، إن امسكتها، فطلقها ثلاثا قبل ان يامره رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال ابن شهاب: فكانت سنة المتلاعنين ".

‏‏‏‏ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے سیدنا عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ عاصم بن عدی انصاری کے پاس آیا اور ان سے کہا: اے عاصم! بھلا اگر کوئی شخص اپنی جورو کے ساتھ کسی مرد کو دیکھے کیا اس کو مار ڈالے۔ پھر تم اس کو مارڈالو گے یا وہ کیا کرے؟ تو یہ مسئلہ پوچھو میرے واسطے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کے سوالوں کو ناپسند کیا اور ان کی برائی بیان کی۔ سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ ان کو شاق گزرا۔ جب وہ اپنے لوگوں میں لوٹ کر آئے تو عویمر ان کے پاس آئے اور پوچھا اے عاصم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ سے کہا: تو میرے پاس اچھی چیز نہیں لایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرا مسئلہ پوچھنا ناگوار ہوا۔ سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! میں تو باز نہ آؤں گا۔ جب تک یہ مسئلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھوں گا، پھر سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تمام لوگوں میں۔ عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کیا فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص اپنی بی بی کے پاس غیر مرد کو دیکھے اس کو مار ڈالے۔ پھر آپ اس کو مار ڈالیں گے اس کے قصاص میں وہ کیا کرے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرے اور تیری جورو کے باب میں اللہ کا حکم اترا یعنی آیت لعان کی تو جا اور اپنی جورو کو لے آ۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر دونوں میاں بی بی نے لعان کیا اور میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا جب وہ فارغ ہوئے تو سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اگر عورت کو اب رکھوں تو میں جھوٹا ہوں۔ پھر سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے اس کو تین طلاق دے دیں۔ اس سے پہلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو حکم کرتے۔ ابن شہاب نے کہا: پھر لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ ٹھہر گیا۔

صحيح مسلم # 3743
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp