كِتَاب الطَّلَاقِ طلاق کے احکام و مسائل

وحدثني ابو الربيع الزهراني ، حدثنا حماد ، حدثنا ايوب ، عن حفصة ، عن ام عطية ، قالت: " كنا ننهى ان نحد على ميت فوق ثلاث، إلا على زوج اربعة اشهر وعشرا، ولا نكتحل ولا نتطيب، ولا نلبس ثوبا مصبوغا، وقد رخص للمراة في طهرها إذا اغتسلت إحدانا من محيضها في نبذة من قسط واظفار ".

‏‏‏‏ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: منع کیے جاتے تھے ہم کسی مردے پر سوگ کرنے سے تین دن سے زیادہ مگر اپنے خاوند پر چار مہینے دس دن تک اور نہ سرمہ لگاتے تھے اور نہ خوشبو اور نہ کوئی رنگین کپڑا پہنتے تھے اور عورت کو اجازت تھی کہ جب حیض سے پاک ہو اور غسل کرے تو تھوڑی قسط اور اظفار کا استعمال کرے۔ (بدبو دور کرنے کو) «وَاللهُ الُْمُوَفِّقْ وَالْمُعِيْنُ»

صحيح مسلم # 3742
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp