كِتَاب الطَّلَاقِ طلاق کے احکام و مسائل

وحدثنا عمرو الناقد ، وابن ابي عمر ، واللفظ لعمرو: حدثنا سفيان بن عيينة ، عن ايوب بن موسى ، عن حميد بن نافع ، عن زينب بنت ابي سلمة ، قالت: لما اتى ام حبيبة نعي ابي سفيان دعت في اليوم الثالث بصفرة، فمسحت به ذراعيها وعارضيها وقالت: كنت عن هذا غنية، سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: " لا يحل لامراة تؤمن بالله واليوم الآخر ان تحد فوق ثلاث إلا على زوج، فإنها تحد عليه اربعة اشهر وعشرا ".

‏‏‏‏ سیدہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے جب سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو ان کے باپ سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے مرنے کی خبر پہنچی، انہوں نے تیسرے دن زرد خوشبو منگائی اور دونوں ہاتھوں اور گالوں کو لگائی اور کہا: مجھے اس کی احتیاج نہ تھی مگر میں نے سنا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: نہیں درست ہے اس کو جو ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر اور پچھلے دن پر یہ کہ سوگ کرے تین دن سے زیادہ البتہ عورت اپنے خاوند پر چار مہینے دس دن تک سوگ کرے۔

صحيح مسلم # 3734
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp