وحدثني محمد بن حاتم بن ميمون ، حدثنا يحيى بن سعيد ، عن ابن جريج . ح وحدثنا محمد بن رافع ، حدثنا عبد الرزاق ، اخبرنا ابن جريج . ح وحدثني هارون بن عبد الله ، واللفظ له: حدثنا حجاج بن محمد ، قال: قال ابن جريج : اخبرني ابو الزبير ، انه سمع جابر بن عبد الله ، يقول: طلقت خالتي، فارادت ان تجد نخلها، فزجرها رجل ان تخرج، فاتت النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: " بلى، فجدي نخلك، فإنك عسى ان تصدقي، او تفعلي معروفا ".
سیدنا جابر بن عبداللہ کہتے تھے کہ میری خالہ کو طلاق ہوئی۔ اور انہوں نے چاہا کہ اپنے باغ کی کھجوریں توڑ لیں سو ایک شخص نے ان کو جھڑکا ان کے باہر نکلنے پر۔ اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ”کیوں نہیں تم جاؤ اور اپنے باغ کی کھجوریں توڑ لو اس لیے کہ شاید تم اس میں سے صدقہ دو (تو اوروں کا بھلا ہو) یا اور کوئی نیکی کرو۔“ (کہ تمہارا بھلا ہو)۔