وحدثنا وحدثنا ابو كريب ، حدثنا ابو اسامة ، عن هشام ، حدثني ابي ، قال: تزوج يحيى بن سعيد بن العاص بنت عبد الرحمن بن الحكم، فطلقها فاخرجها من عنده، فعاب ذلك عليهم عروة، فقالوا: إن فاطمة قد خرجت، قال عروة: فاتيت عائشة ، فاخبرتها بذلك، فقالت: " ما لفاطمة بنت قيس خير في ان تذكر هذا الحديث ".
ہشام نے کہاکہ مجھ سے میرے باپ نے ذکر کیا کہ یحییٰ بن سعید نے عبدالرحمٰن کی بیٹی سے نکاح کیا اور اس کو طلاق دے کر گھر سے نکال دیا اور عروہ نے اس بات پر انہیں الزام دیا تو لوگوں نے کہا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی تو بعد طلاق کے شوہر کے گھر سے نکل گئی تھیں۔ سو میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور میں نے ان کو خبر دی انہوں نے کہا کہ فاطمہ کو اس حدیث کا بیان کرنا اچھا نہیں۔