وحدثني إسحاق بن منصور ، اخبرنا ابو عاصم ، حدثنا سفيان الثوري ، حدثني ابو بكر بن ابي الجهم ، قال: دخلت انا، وابو سلمة بن عبد الرحمن على فاطمة بنت قيس ، فسالناها، فقالت: كنت عند ابي عمرو بن حفص بن المغيرة، فخرج في غزوة نجران، وساق الحديث بنحو حديث ابن مهدي، وزاد، قالت: فتزوجته فشرفني الله بابي زيد، وكرمني الله بابي زيد،
ابوبکر نے کہا کہ میں اور ابوسلمہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے اسی طلاق وغیرہ کو دریافت کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں ابوعمرو کے پاس تھی اور وہ غزوہ نجران کو گئے آگے وہی مضمون بیان کیا اخیر میں یہ زیادہ کیا کہ اللہ نے مجھے شرافت اور بزرگی بخشی ابوزید سے نکاح کرنے میں۔