كِتَاب الطَّلَاقِ طلاق کے احکام و مسائل

وحدثناه محمد بن عمرو بن جبلة ، حدثنا ابو احمد ، حدثنا عمار بن رزيق ، عن ابي إسحاق ، قال: كنت مع الاسود بن يزيد جالسا في المسجد الاعظم ومعنا الشعبي، فحدث الشعبي بحديث فاطمة بنت قيس ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لم يجعل لها سكنى، ولا نفقة "، ثم اخذ الاسود كفا من حصى فحصبه به، فقال: ويلك تحدث بمثل، هذا قال عمر: لا نترك كتاب الله وسنة نبينا صلى الله عليه وسلم، لقول امراة لا ندري لعلها حفظت او نسيت لها السكنى، والنفقة، قال الله عز وجل: لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن إلا ان ياتين بفاحشة مبينة سورة الطلاق آية 1،

‏‏‏‏ ابو اسحاق، اسود کے ساتھ تھے بڑی مسجد میں اور شعبی بھی۔ سو شعبی نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اسے گھر دلوایا، نہ خرچ اور اسود نے ایک مٹھی کنکر لی اور شعبی کی طرف پھینکی اور کہا کہ تم اسے روایت کرتے ہو یہ کیا تمہاری خرابی ہے اور حالانکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ ہم نہیں چھوڑتے کتاب اللہ تعالیٰ کی اور سنت اپنے نبی کی ایک عورت کے قول سے کہ معلوم نہیں شاید وہ بھول گئی یا یاد رکھا اور مطلقہ ثلاث کو گھر دینا چاہیے اور خرچہ بھی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِن بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ» ‏‏‏‏ ۵-الطلاق:۱) کہ مت نکالو ان کو ان کے گھروں سے مگر جب وہ کوئی کھلی بے حیائی کریں۔ (یعنی زنا)۔

صحيح مسلم # 3710
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp