كِتَاب الطَّلَاقِ طلاق کے احکام و مسائل

حدثني زهير بن حرب ، حدثنا هشيم ، اخبرنا سيار ، وحصين ، ومغيرة ، واشعث ، ومجالد ، وإسماعيل بن ابي خالد ، وداود ، كلهم عن الشعبي ، قال: دخلت على فاطمة بنت قيس ، فسالتها عن قضاء رسول الله صلى الله عليه وسلم عليها، فقالت: طلقها زوجها البتة، فقالت: فخاصمته إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في السكنى والنفقة، قالت: " فلم يجعل لي سكنى، ولا نفقة، وامرني ان اعتد في بيت ابن ام مكتوم "،

‏‏‏‏ شعبی نے کہا: میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور اس سے دریافت کیا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے مقدمہ میں تو اس نے کہا کہ مجھ کو تین طلاق دیں میرے شوہر نے اور میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا جھگڑا لے گئی مکان اور نفقہ کے لئے تو انہوں نے نہ مجھے مکان دلوایا اور نہ نفقہ اور حکم دیا کہ ابن ام مکتوم کے گھر عدت پوری کروں۔

صحيح مسلم # 3705
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp