كِتَاب الطَّلَاقِ طلاق کے احکام و مسائل

حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا ليث ، عن عمران بن ابي انس ، عن ابي سلمة ، انه قال: سالت فاطمة بنت قيس ، فاخبرتني: ان زوجها المخزومي طلقها، فابى ان ينفق عليها، فجاءت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاخبرته، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا نفقة لك، فانتقلي فاذهبي إلى ابن ام مكتوم، فكوني عنده، فإنه رجل اعمى تضعين ثيابك عنده ".

‏‏‏‏ ابوسلمہ رحمہ اللہ علیہ نے کہاکہ میں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو انہوں نے خبر دی کہ ان کے شوہر مخزومی نے طلاق دی اور انکار کیا نفقہ دینے سے پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ تم کو نفقہ نہیں اور تم ابن ام مکتوم کے گھر چلی جاؤ اس لیےکہ وہ نابینا ہے وہاں تم اپنے کپڑے اتار سکتی ہو۔ سو انہی کے پاس رہو۔

صحيح مسلم # 3699
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp