كِتَاب الطَّلَاقِ طلاق کے احکام و مسائل

حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا عبد العزيز يعني ابن ابي حازم ، وقال قتيبة : ايضا حدثنا يعقوب يعني ابن عبد الرحمن القاري ، كليهما عن ابي حازم ، عن ابي سلمة ، عن فاطمة بنت قيس ، انه طلقها زوجها في عهد النبي صلى الله عليه وسلم، وكان انفق عليها نفقة دون، فلما رات ذلك، قالت: والله لاعلمن رسول الله صلى الله عليه وسلم، فإن كان لي نفقة اخذت الذي يصلحني، وإن لم تكن لي نفقة لم آخذ منه شيئا، قالت: فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: " لا نفقة لك، ولا سكنى ".

‏‏‏‏ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے کہاکہ ان کے شوہر نے طلاق دی ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور ان کو کچھ تھوڑا سا خرچ روانہ کیا پھر جب انہوں نے دیکھا تو کہا: اللہ کی قسم! میں خبر دوں گی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ پھر اگر میرے لیے نفقہ ہو تو جتنا مجھے کفایت کرے اتنا لوں گی اور اگر میرے لیے نفقہ نہ ہو گا تو اس میں سے کچھ نہ لوں گی۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ تمہارے لیے نفقہ ہے، نہ مکان۔

صحيح مسلم # 3698
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp