كِتَاب الطَّلَاقِ طلاق کے احکام و مسائل

(حديث موقوف) قال قال الزهري : فاخبرني عروة ، عن عائشة ، قالت: لما مضى تسع وعشرون ليلة دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم، بدا بي، فقلت: يا رسول الله، إنك اقسمت ان لا تدخل علينا شهرا، وإنك دخلت من تسع وعشرين اعدهن، فقال: " إن الشهر تسع وعشرون "، ثم قال: " يا عائشة، إني ذاكر لك امرا، فلا عليك ان لا تعجلي فيه حتى تستامري ابويك "، ثم قرا علي الآية: يايها النبي قل لازواجك، حتى بلغ اجرا عظيما سورة الاحزاب آية 28 - 29، قالت عائشة: قد علم والله ان ابوي لم يكونا ليامراني بفراقه، قالت: فقلت: او في هذا استامر ابوي، فإني اريد الله ورسوله والدار الآخرة، قال معمر : فاخبرني ايوب : ان عائشة قالت: لا تخبر نساءك اني اخترتك، فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم: " إن الله ارسلني مبلغا ولم يرسلني متعنتا "، قال قتادة: صغت قلوبكما مالت قلوبكما.

‏‏‏‏ زہری نے کہا: خبر دی مجھ کو عرہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبانی کہ جب انتیس راتیں گزر گئیں تو داخل ہوئے مجھ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور پہلے مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کرنا شروع کیا (یعنی مضمون تخبیر کا) سو میں نے عرض کی کہ اے رسول اللہ تعالیٰ کے! آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ ہمارے پاس ایک ماہ تک تشریف نہ لائیں گے اور آپ ہمارے پاس انتیسویں دن تشریف لے آئے اور میں برابر دن گنتی تھی (یہ عرض کرنا ان کا اس غرض سے تھا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول نہ گئے ہوں) سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ماہ کا اطلاق انتیس دن پر بھی آتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کہ اے عائشہ! میں تم سے ایک بات کہتا ہوں اور تم اس کے جواب دینے میں جلدی نہ کرو یہاں تک کہ مشورہ لے لو اپنے ماں باپ سے تو کچھ تمہارا حرج نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت پڑھی «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ» ۳-الأحزاب: ۲۸) سے «أَجْرًا عَظِيمًا» ۳-الأحزاب: ۲۵) تک یعنی اے نبی! کہہ دو تم اپنی بیبیوں سے۔ بہت بڑا اجر ہے تک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب معلوم تھا کہ میرے ماں باپ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہونے کا حکم نہ دیں گے، پھر فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی کہ اس میں کیا مشورہ لوں میں اپنے ماں باپ سے میں بلاشک چاہتی ہوں اللہ کو اور اس کے رسول کو اور آخرت کے گھر کو (یہ کمال ایمان اور تفقہ ہے ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کا) معمر نے کہا: مجھے ایوب نے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مت خبر دو آپ اپنی اور بیبیوں کو اس سے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کیا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: کہاللہ تعالیٰ نے مجھے پیغام پہنچانے کو بھیجا ہے نہ مشکل میں ڈالنے کو۔ قتادہ نے کہا: «صَغَتْ قُلُوبُكُمَا» (التحریم: ۴: ۶۶) کے معنیٰ یہ ہیں کہ جھک رہے ہیں تمہارے دل۔

صحيح مسلم # 3696
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp