وحدثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي ، ومحمد بن ابي عمر ، وتقاربا في لفظ الحديث، قال ابن ابي عمر: حدثنا، وقال إسحاق: اخبرنا عبد الرزاق ، اخبرنا معمر ، عن الزهري ، عن عبيد الله بن عبد الله بن ابي ثور ، عن ابن عباس ، قال: لم ازل حريصا ان اسال عمر ، عن المراتين من ازواج النبي صلى الله عليه وسلم: اللتين، قال الله تعالى: إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما سورة التحريم آية 4، حتى حج عمر، وحججت معه، فلما كنا ببعض الطريق عدل عمر، وعدلت معه بالإداوة فتبرز ثم اتاني، فسكبت على يديه فتوضا، فقلت: يا امير المؤمنين، " من المراتان من ازواج النبي صلى الله عليه وسلم اللتان قال الله عز وجل لهما: إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما سورة التحريم آية 4، قال عمر: واعجبا لك يا ابن عباس، قال الزهري: كره والله ما ساله عنه ولم يكتمه، قال: هي حفصة، وعائشة "، ثم اخذ يسوق الحديث، قال: كنا معشر قريش قوما نغلب النساء، فلما قدمنا المدينة، وجدنا قوما تغلبهم نساؤهم، فطفق نساؤنا يتعلمن من نسائهم، قال: وكان منزلي في بني امية بن زيد بالعوالي، فتغضبت يوما على امراتي، فإذا هي تراجعني، فانكرت ان تراجعني، فقالت: ما تنكر ان اراجعك، فوالله إن ازواج النبي صلى الله عليه وسلم ليراجعنه وتهجره إحداهن اليوم إلى الليل، فانطلقت فدخلت على حفصة، فقلت: اتراجعين رسول الله صلى الله عليه وسلم؟، فقالت: نعم، فقلت: اتهجره إحداكن اليوم إلى الليل؟، قالت: نعم، قلت: قد خاب من فعل ذلك منكن وخسر، افتامن إحداكن ان يغضب الله عليها لغضب رسوله صلى الله عليه وسلم، فإذا هي قد هلكت، لا تراجعي رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا تساليه شيئا وسليني ما بدا لك، ولا يغرنك ان كانت جارتك هي اوسم واحب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم منك، يريد عائشة، قال: وكان لي جار من الانصار، فكنا نتناوب النزول إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فينزل يوما وانزل يوما، فياتيني بخبر الوحي وغيره وآتيه بمثل ذلك، وكنا نتحدث ان غسان تنعل الخيل لتغزونا فنزل صاحبي ثم اتاني عشاء، فضرب بابي ثم ناداني، فخرجت إليه، فقال: حدث امر عظيم، قلت ماذا، اجاءت غسان؟ قال: لا بل اعظم من ذلك واطول: طلق النبي صلى الله عليه وسلم نساءه، فقلت: قد خابت حفصة وخسرت، قد كنت اظن هذا كائنا حتى إذا صليت الصبح شددت علي ثيابي، ثم نزلت فدخلت على حفصة وهي تبكي، فقلت: اطلقكن رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقالت: لا ادري ها هو ذا معتزل في هذه المشربة، فاتيت غلاما له اسود، فقلت: استاذن لعمر، فدخل ثم خرج إلي، فقال: قد ذكرتك له فصمت، فانطلقت حتى انتهيت إلى المنبر فجلست، فإذا عنده رهط جلوس يبكي بعضهم، فجلست قليلا، ثم غلبني ما اجد، ثم اتيت الغلام، فقلت: استاذن لعمر، فدخل ثم خرج إلي، فقال: قد ذكرتك له فصمت فوليت مدبرا، فإذا الغلام يدعوني، فقال: ادخل فقد اذن لك، فدخلت فسلمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فإذا هو متكئ على رمل حصير قد اثر في جنبه، فقلت: اطلقت يا رسول الله نساءك؟ فرفع راسه إلي، وقال: " لا "، فقلت: الله اكبر لو رايتنا يا رسول الله، وكنا معشر قريش قوما نغلب النساء فلما قدمنا المدينة وجدنا قوما تغلبهم نساؤهم فطفق نساؤنا يتعلمن من نسائهم، فتغضبت على امراتي يوما فإذا هي تراجعني، فانكرت ان تراجعني، فقالت: ما تنكر ان اراجعك، فوالله إن ازواج النبي صلى الله عليه وسلم ليراجعنه وتهجره إحداهن اليوم إلى الليل، فقلت: قد خاب من فعل ذلك منهن وخسر، افتامن إحداهن ان يغضب الله عليها لغضب رسوله صلى الله عليه وسلم فإذا هي قد هلكت، فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: يا رسول الله، قد دخلت على حفصة، فقلت: لا يغرنك ان كانت جارتك هي اوسم منك واحب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم منك، فتبسم اخرى، فقلت: استانس يا رسول الله، قال: " نعم "، فجلست فرفعت راسي في البيت فوالله ما رايت فيه شيئا يرد البصر إلا اهبا ثلاثة، فقلت: ادع الله يا رسول الله، ان يوسع على امتك فقد وسع على فارس، والروم، وهم لا يعبدون الله، فاستوى جالسا، ثم قال: " افي شك انت يا ابن الخطاب "، اولئك قوم عجلت لهم طيباتهم في الحياة الدنيا "، فقلت: استغفر لي يا رسول الله، وكان اقسم ان لا يدخل عليهن شهرا من شدة موجدته عليهن، حتى عاتبه الله عز وجل.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں مدت سے آرزو رکھتا تھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ان دو بیبیوں کا حال پوچھوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں میں سے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّـهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا» (۶۶-التحریم:۴) کہ ”اگر تم توبہ کرو اللہ تعالیٰ کی طرف تو تمہارے دل جھک رہے ہیں۔“ یہاں تک کہ حج کیا انہوں نے اور میں نے بھی ان کے ساتھ پھر جب ہم ایک راہ میں تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ راہ سے کنارے ہوئے۔ اور میں بھی ان کے ساتھ کنارے ہوا۔ پانی کی چھاگل لے کر اور حاجت سے فارغ ہوئے اور پھر میرے پاس آئے۔ اور میں نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور انہوں نے وضو کیا اور میں نے کہا: اے امیرالمؤمنین! وہ کون سی دو عورتیں ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیوں میں سے جن کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ «إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّـهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا» ”اگر توبہ کرو تم اللہ کی طرف تو تمہارے دل جھک رہے ہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بڑے تعجب کی بات ہے اے ابن عباس! (یعنی اب تک تم نے یہ کیوں نہ دریافت کیا) زہری نے کہا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ان کا نہ پوچھنا اتنی مدت ناپسند ہوا اور یہ ناپسند ہوا کہ اتنے دن کیوں اس سوال کو چھپا رکھا پھر فرمایا کہ وہ حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہن ہیں، پھر لگے حدیث بیان کرنے اور کہا کہ ہم گروہ قریش کے ایک ایسی قوم تھے کہ عورتوں پر غالب رہتے تھے، پھر جب مدینہ میں آئے تو ایسے گروہ کو پایا کہ ان کی عورتیں ان پر غالب تھیں۔ سو ہماری عورتیں ان کی خصلتیں سیکھنے لگیں اور میرا مکان ان دنوں بنی امیہ کے قبیلہ میں تھا مدینہ کی بلندی پر سو ایک دن میں نے اپنی بیوی پر کچھ غصہ کیا سو وہ مجھے جواب دینے لگی۔ اور میں نے اس کے جواب دینے کو برا مانا تو وہ بولی کہ تم میرے جواب دینے کو برا مانتے ہو اور اللہ کی قسم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیاں ان کو جواب دیتی ہیں اور ایک ایک ان میں کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دیتی ہے کہ دن سے رات ہو جاتی ہے۔ سو میں چلا اور داخل ہوا حفصہ پر اور میں نے کہا: کہ تم جواب دیتی ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ انہوں نے کہا: ہاں اور میں نے کہا: محروم ہوئیں تم میں سے جس نے ایسا کیا اور بڑے نقصان میں آئی کیا تم میں سے ہر ایک ڈرتی اس سے کہ اللہ اس پر غصہ کرے اس کے رسول کے غصہ دلانے سے اور ناگہاں وہ ہلاک ہو جائے (اس سے قوت ایمان سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی معلوم ہوتی ہے اور جو عظمت و شان ان کے سینہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے بخوبی واضح ہوتی ہے) پھر کہا: کہ ہرگز جواب نہ دے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان سے کوئی چیز طلب نہ کر اور مجھ سے فرمائش کیا کر کہ جو تیرا جی چاہے اور تو دھوکا نہ کھائیو اس بی بی سے جو تیری ہمسائی یعنی سوت ہے کہ وہ زیادہ حسین ہے تجھ سے اور زیادہ پیاری ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہ نسبت تیرے (غرض تو اس کے بھروسہ میں نہ رہیو کہ تیری اس سے برابری نہیں ہو سکتی اس میں اقرار ہے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی افضلیت اور محبوبیت کا) مراد لیتے تھے وہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو اور کہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہ ہمارا ایک ہمسایہ تھا انصار میں سے کہ میں اور وہ باری باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت حاضر ہوتے تھے۔ سو ایک دن وہ آتا اور ایک دن میں اور وہ مجھے وحی وغیرہ کی خبر دیتا تھا اور میں اسے، اور ہم میں چرچا ہوتا تھا کہ غسان کا بادشاہ اپنے گھوڑوں کی نعلیں لگاتا ہے کہ ہم سے لڑے سو ایک دن میرا رفیق نیچے گیا (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) اور پھر عشاء کو میرے پاس آیا اور میرا دروازہ کھٹکھٹایا اور آواز دی اور میں نکلا اور اس نے کہا: بڑا غضب ہوا۔ میں نے کہا: کیا ملک غسان آیا؟ اس نے کہا: نہیں اس سے بھی بڑی مہم پیش آئی اور بڑی لمبی کہ طلاق دی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیبیوں کو۔ میں نے کہا: بے نصیب ہوئی حفصہ اور بڑے نقصان میں آئی اور میں پہلے یقین رکھتا تھا کہ ایک دن یہ ہونے والا ہے یہاں تک کہ جب میں نے صبح کی نماز پڑھی اپنے کپڑے پہنے اور میں نیچے آیا اور حفصہ کے پاس گیا اور اس کو دیکھا کہ وہ رو رہی ہے، پھر میں نے کہا کہ طلاق دی تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے؟ سو اس نے کہا: میں نہیں جانتی اور وہ تو وہاں کنارہ کیے ہوئے اس جھروکے میں بیٹھے ہیں۔ سو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کی طرف آیا جو سیاہ فام تھا اور میں نے کہا کہ اجازت لو عمر کے لیے اور وہ اندر گیا اور پھر نکلا اور کہا کہ میں نے تمہارا ذکر کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم چپ ہو رہے، پھر میں پیٹھ موڑ کر چلا اور ناگہاں غلام مجھے بلانے لگا اور کہا کہ آؤ تمہارے لیے اجازت ہوئی، سو داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بورئیے کی بناوٹ پر تکیہ لگائے ہوئے تھے کہ اس کی بناوٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو میں اثر کر گئی تھی، پھر میں نے عرض کی کیا آپ نے طلاق دی اپنی بیبیوں کو اے رسول اللہ کے! سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف سر اٹھایا اور فرمایا: ”کہ نہیں۔“ پھر میں نے کہا: اللہ اکبر! اے رسول اللہ کے! کاش آپ دیکھتے کہ ہم لوگ قریش ہیں اور ایسی قوم تھے کہ غالب رہتے تھے عورتوں پر پھر جب مدینہ منورہ میں آئے تو ہم نے ایسی قوم کو پایا کہ ان کی عورتیں ان پر غالب ہیں اور ہماری عورتیں بھی ان کی عادتیں سیکھنے لگیں اور میں اپنی عورت پر غصہ ہوا ایک دن سو وہ مجھے جواب دینے لگی اور میں نے اس کے جواب دینے کو بہت برا مانا تو اس نے کہا: کہ تم کیا برا مانتے ہو میرے جواب دینے کو اس لیے کہ اللہ کی قسم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیبیاں ان کو جواب دیتی ہیں اور ایک ان میں کی آپ کو چھوڑ دیتی ہے دن سے رات تک سو میں نے کہا کہ محروم ہو گئی اور نقصان میں پڑ گئی جس نے ان میں سے ایسا کیا۔ کیا تم میں سے ہر ایک بے خوف ہو گئی ہے اس سے کہ اللہ تعالیٰ اس پر غصہ کرے بسبب غصہ اس کے رسول کے اور وہ اسی دم ہلاک ہو جائے، سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراۓ اور میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ میں داخل ہوا حفصہ کے پاس اور میں نے کہا کہ تم دھوکا نہ کھانا اپنی سوکن کی حالت دیکھ کر کہ وہ تم سے زیادہ خوبصورت اور تم سے زیادہ پیاری ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر دوبارہ مسکرائے (اس گفتگو میں کمال ایمان سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا اور کمال جانبداری اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت ہوئی کہ انہوں نے سب طرح مقدم رکھا رضامندی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی مقتضیٰ ہے کمال ایمان کا) پھر میں نے عرض کی کہ کچھ جی بہلانے کی باتیں کروں اے رسول اللہ تعالیٰ کے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ سو میں بیٹھ گیا اور میں نے اپنا سر اونچا کیا گھر کی طرف تو اللہ کی قسم! میں نے کوئی چیز وہاں ایسی نہ دیکھی جس کو دیکھ کر میری نگاہ میری طرف پھرتی سوا تین چمڑوں کے۔ سو میں نے عرض کی کہ اے رسول اللہ کے! آپ اللہ سے دعا کریں کہ آپ کی امت کو فراغت اور کشادگی عنایت کرے (یہ کمال ادب کی بات کہی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگر اپنے واسطے نہیں مانگتے اور امت کی کشادگی طلب فرمائیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ البال رہیں) اس لیے کہ اللہ تعالیٰ شانہ نے فارس اور روم کو بڑی کشادگی دے رکھی ہے حالانکہ وہ اللہ کو نہیں پوجتے ہیں (بلکہ آتش پرست اور بت پرست ہیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ بیٹھے اور کہا: ”اے ابن خطاب! کیا شک میں ہو وہ لوگ تو ایسے ہیں کہ ان کو طیبات دنیا کی زندگی میں دے دیئے گئے۔“ سو میں نے عرض کی کہ مغفرت مانگئیے میرے لیے اللہ تعالیٰ سے اے رسول اللہ تعالیٰ کے! اور کیفیت یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ بیبیوں کے پاس نہ جائیں گے ایک مہینے تک اور یہ قسم ان پر نہایت غصہ کے سبب کھائی تھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر عتاب فرمایا۔