كِتَاب الطَّلَاقِ طلاق کے احکام و مسائل

حدثنا سريج بن يونس ، حدثنا عباد بن عباد ، عن عاصم ، عن معاذة العدوية ، عن عائشة ، قالت: " كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يستاذننا إذا كان في يوم المراة منا بعد ما نزلت: ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء سورة الاحزاب آية 51 "، فقالت لها معاذة: فما كنت تقولين لرسول الله صلى الله عليه وسلم إذا استاذنك، قالت: كنت اقول إن كان ذاك إلي لم اوثر احدا على نفسي،

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے اجازت مانگا کرتے تھے جب کسی عورت کی باری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم آیا کرتے تھے ہم میں سے بعد اس کے یہ آیت اتری «تُرْجِي مَن تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاءُ» ۳-الأحزاب: ۵۱) یعنی الگ رکھے تو ان سے جس کو چاہے تو معاذہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ کیا جواب دیتی تھیں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے اجازت چاہتے تھے انہوں نے کہا کہ میں کہتی تھی: اگر میرا اختیار ہوتا تو اپنی ذات پر کسی کو مقدم نہ رکھتی۔

صحيح مسلم # 3682
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp