وحدثني ابو الطاهر ، حدثنا ابن وهب. ح وحدثني حرملة بن يحيى التجيبي ، واللفظ له: اخبرنا عبد الله بن وهب ، اخبرني يونس بن يزيد ، عن ابن شهاب ، اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف : ان عائشة ، قالت: لما امر رسول الله صلى الله عليه وسلم بتخيير ازواجه بدا بي، فقال: " إني ذاكر لك امرا، فلا عليك ان لا تعجلي حتى تستامري ابويك، قالت: قد علم ان ابوي لم يكونا ليامراني بفراقه، قالت: ثم قال: إن الله عز وجل، قال: يايها النبي قل لازواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها فتعالين امتعكن واسرحكن سراحا جميلا {28} وإن كنتن تردن الله ورسوله والدار الآخرة فإن الله اعد للمحسنات منكن اجرا عظيما {29} سورة الاحزاب آية 28-29، قالت: فقلت: في اي هذا استامر ابوي، فإني اريد الله ورسوله والدار الآخرة، قالت: ثم فعل ازواج رسول الله صلى الله عليه وسلم مثل ما فعلت ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب حکم ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ اپنی بیبیوں کو اختیار دے دو کہ وہ دنیا چاہیں تو دنیا لیں اور آخرت چاہیں تو آخرت لیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے مجھ سے اس کو بیان کرنا شروع کیا۔ اور فرمایا: کہ ”میں تم سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں اور تم اس کے جواب میں جلدی نہ کرنا جب تک مشورہ نہ لے لینا اپنے ماں باپ سے۔“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانا تھا کہ میرے ماں باپ کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چھوڑنے کا مجھے حکم نہ دیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:کہ ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا ٭ وَإِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّـهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا» (۳۳-الأحزاب: ۲۸-۲۹) یعنی ”اے نبی! کہہ دو تم اپنی بیبیوں سے کہ اگر وہ دنیا اور اس کی زینت چاہیں تو آؤ میں تم کو برخورداری دوں اور اچھی طرح سے تم کو رخصت کر دوں اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی رضامندی چاہو اور اس کے رسول کی اور آخرت کا گھر چاہو تو بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے نیک بختوں کے لیے بہت بڑا ثواب تیار کیا ہے۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی کہ اس میں کون سی بات ایسی ہے جس کے لیے میں مشورہ لوں اپنے ماں باپ سے میں چاہتی ہوں اللہ کو اور اس کے رسول کو اور آخرت کے گھر کو، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں نے ایسا ہی کیا جیسا میں نے کیا تھا۔