كِتَاب الطَّلَاقِ طلاق کے احکام و مسائل

وحدثني محمد بن حاتم ، حدثنا حجاج بن محمد ، اخبرنا ابن جريج ، اخبرني عطاء ، انه سمع عبيد بن عمير ، يخبر انه: سمع عائشة ، تخبر ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يمكث، عند زينب بنت جحش فيشرب، عندها عسلا، قالت: فتواطات انا وحفصة ان ايتنا ما دخل عليها النبي صلى الله عليه وسلم، فلتقل: إني اجد منك ريح مغافير اكلت مغافير، فدخل على إحداهما، فقالت ذلك له، فقال: " بل شربت عسلا عند زينب بنت جحش، ولن اعود له "، فنزل: لم تحرم ما احل الله لك إلى قوله: إن تتوبا سورة التحريم آية 1 - 4، لعائشة، وحفصة، وإذ اسر النبي إلى بعض ازواجه حديثا سورة التحريم آية 3، لقوله: بل شربت عسلا ".

‏‏‏‏ سیدنا عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بی بی زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ٹھہرا کرتے اور ان کے پاس شہد پیا کرتے تھے سو بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے ایکا کیا کہ جس کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرے کہ میں آپ کے پاس سے بدبو مغافیر کی پاتی ہوں۔ سو آپ ایک کے پاس جب آئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ میں نے زینب کے پاس شہد پیا ہے اور اب کبھی نہ پیوں گا۔ پھر یہ آیت اتری «لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكَ» ۶-التحریم:۱-۴) سے اخیر تک یعنی اے نبی! کیوں حرام کرتا ہے تو اس چیز کو جس کو اللہ نے تیرے لیے حلال کیا ہے۔ اور فرمایا: کہ اگر توبہ کریں وہ دونوں تو دل ان کے جھک رہے ہیں۔ اور مراد ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا اور حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں اور یہ جو فرمایا: «وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِىُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا» کہ چپکے سے ایک بات کہی نبی نے اپنی کسی بی بی سے۔ تو مراد اس سے وہی بات ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں نے شہد پیا ہے۔

صحيح مسلم # 3678
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp