كِتَاب الطَّلَاقِ طلاق کے احکام و مسائل

حدثنا يحيى بن يحيى ، وقتيبة ، وابن رمح ، واللفظ ليحيى قال قتيبة: حدثنا ليث ، وقال الآخران: اخبرنا الليث بن سعد، عن نافع ، عن عبد الله : انه طلق امراة له وهي حائض تطليقة واحدة، " فامره رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يراجعها ثم يمسكها حتى تطهر، ثم تحيض عنده حيضة اخرى، ثم يمهلها حتى تطهر من حيضتها، فإن اراد ان يطلقها فليطلقها حين تطهر من قبل ان يجامعها، فتلك العدة التي امر الله ان يطلق لها النساء "، وزاد ابن رمح في روايته: وكان عبد الله إذا سئل، عن ذلك، قال: لاحدهم اما انت طلقت امراتك مرة او مرتين، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم: امرني بهذا، وإن كنت طلقتها ثلاثا فقد حرمت عليك حتى تنكح زوجا غيرك، وعصيت الله فيما امرك من طلاق امراتك، قال مسلم: جود الليث، في قوله: تطليقة واحدة.

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بی بی کو طلاق دی حالت حیض میں اور حکم کیا ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ رجوع کرے اور اس کو رکھے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہو اور پھر حائضہ ہو ان کے پاس دوسری بار اور پھر اسے مہلت دی جائے یہاں تک کہ پاک ہو دوسرے حیض سے پھر اگر ارادہ ہو طلاق کا طلاق دے جب وہ پاک ہو جماع سے پہلے۔ غرض یہی عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم کیا ہے کہ اس کے حساب سے عورتوں کو طلاق دی جائے۔ اور ابن رمح نے اپنی روایت میں یہ زیادہ کیا ہے کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ سے جب یہ مسئلہ پوچھا جاتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ تو نے اپنی عورت کو ایک یا دو طلاق دی ہیں (تو رجوع ہو سکتا ہے) اس لیےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا حکم دیا تھا اور اگر تو نے تین طلاق دی ہیں تو وہ عورت تجھ پر حرام ہو گئی جب تک کہ وہ دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے سوا تیرے اور نافرمانی کی تو نے اللہ کی اس طلاق کے بارے میں جو تیری عورت کے لیے تجھے سکھایا تھا۔ مسلم رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس روایت میں ایک طلاق کا لفظ جو لیث نے کہا خوب کہا۔

صحيح مسلم # 3653
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp