كِتَاب الطَّلَاقِ طلاق کے احکام و مسائل

حدثنا يحيى بن يحيى التميمي ، قال: قرات على مالك بن انس ، عن نافع ، عن ابن عمر : انه طلق امراته وهي حائض في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فسال عمر بن الخطاب رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: " مره فليراجعها، ثم ليتركها حتى تطهر، ثم تحيض، ثم تطهر، ثم إن شاء امسك بعد، وإن شاء طلق، قبل ان يمس، فتلك العدة التي امر الله عز وجل ان يطلق لها النساء ".

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بی بی کو طلاق دی اور وہ حائضہ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اسے حکم دو کہ رجوع کرع کرے اور اس کو رہنے دے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے اور پھر حیض آئے اور پھر پاک ہو پھر چاہے روک رکھے چاہے طلاق دے قبل اس کےکہ اسے ہاتھ لگائے اور یہی عدت ہے جس کے حساب سے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی طلاق کا حکم کیا ہے۔

صحيح مسلم # 3652
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp