حدثنا محمد بن عبد الاعلى ، حدثنا المعتمر ، قال: سمعت ابي ، حدثنا ابو نضرة ، عن جابر بن عبد الله ، قال: كنا في مسير مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا على ناضح إنما هو في اخريات الناس، قال: فضربه رسول الله صلى الله عليه وسلم او قال: نخسه اراه، قال بشيء كان معه، قال: فجعل بعد ذلك يتقدم الناس ينازعني حتى إني لاكفه، قال: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اتبيعنيه بكذا وكذا والله يغفر لك "، قال: قلت: هو لك يا نبي الله، قال: " اتبيعنيه بكذا وكذا والله يغفر لك "، قال: قلت: هو لك يا نبي الله، قال وقال لي: " اتزوجت بعد ابيك؟ "، قلت: نعم، قال: " ثيبا ام بكرا "، قال: قلت: ثيبا، قال: " فهلا تزوجت بكرا تضاحكك وتضاحكها، وتلاعبك وتلاعبها "، قال ابو نضرة: فكانت كلمة يقولها المسلمون: افعل كذا وكذا والله يغفر لك.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور میں ایک پانی لانے والے اونٹ پر سوار تھا سب لوگوں کے پیچھے سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مارا یا فرمایا چلایا، میں گمان کرتا ہوں کسی ایسی چیز سے مارا جو ان کے پاس تھی پھر تو وہ سب لوگوں سے آگے چل نکلا (یہ معجزہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا) اور مجھ سے گویا لڑتا تھا اور میں اس کو روکتا تھا پھر فرمایا: ”تم اسے میرے ہاتھ بیچتے ہو اتنی قیمت پر اللہ تم کو بخشے۔“ میں نے عرض کی کہ وہ آپ کا ہے۔ پھر فرمایا: ”کیا تم نے نکاح کیا اپنے باپ کے پیچھے؟“ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کہ ثیبہ یا باکرہ؟“ میں نے کہا: ثیبہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باکرہ کیوں نہ کی کہ وہ تم سے کھیلتی اور تم اس سے۔“ ابونضرہ نے کہا کہ یہ مسلمان کا تکلیہ کلام ہے کہ تم ایسا کرو اللہ تم کو بخشے (غرض اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان سے فرمایا)۔