كِتَاب الرِّضَاعِ رضاعت کے احکام و مسائل

حدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا عبد الوهاب يعني ابن عبد المجيد الثقفي ، حدثنا عبيد الله ، عن وهب بن كيسان ، عن جابر بن عبد الله ، قال: خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزاة، فابطا بي جملي فاتى علي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال لي: " يا جابر "، قلت: نعم، قال: " ما شانك "، قلت: ابطا بي جملي واعيا فتخلفت، فنزل فحجنه بمحجنه، ثم قال: " اركب "، فركبت، فلقد رايتني اكفه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: " اتزوجت "، فقلت: نعم، فقال: " ابكرا ام ثيبا "، فقلت: بل ثيب، قال: " فهلا جارية تلاعبها وتلاعبك "، قلت: إن لي اخوات، فاحببت ان اتزوج امراة تجمعهن وتمشطهن وتقوم عليهن، قال: " اما إنك قادم، فإذا قدمت فالكيس الكيس، ثم قال: اتبيع جملك "، قلت: نعم، فاشتراه مني باوقية، ثم قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقدمت بالغداة، فجئت المسجد، فوجدته على باب المسجد، فقال: " الآن حين قدمت "، قلت: نعم، قال: " فدع جملك وادخل، فصل ركعتين "، قال: فدخلت فصليت ثم رجعت، فامر بلالا ان يزن لي اوقية، فوزن لي بلال، فارجح في الميزان، قال: فانطلقت فلما وليت، قال: " ادع لي جابرا "، فدعيت فقلت: الآن يرد علي الجمل، ولم يكن شيء ابغض إلي منه، فقال: " خذ جملك ولك ثمنه ".

‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا ایک جہاد میں اور میرے اونٹ نے دیر لگائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور فرمایا: اے جابر؟ میں نے عرض کی جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کی کہ میرے اونٹ نے دیر لگائی اور تھک گیا اس لیے میں پیچھے رہ گیا سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور آپ نے اپنے ٹیڑھے کونے لکڑی سے اس کو ایک کونچا دیا پھر فرمایا: سوار ہو۔ میں سوار ہوا اور میں نے اپنے کو دیکھاکہ میرا اونٹ اس قدر تیز ہو گیا کہ میں اس کو روکتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نہ بڑھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ تم نے نکاح کیا؟ میں نے عرض کی کہ ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باکرہ یا ثئیبہ؟ میں نے عرض کی! ثئیبہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باکرہ لڑکی سے کیوں نہ کیا کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی۔ میں نے عرض کی کہ میری کئی بہنیں ہیں اس لیے میں نے چاہا کہ ایسی عورت سے نکاح کروں جو ان کی کنگھی کرے اور ان کی خدمت کرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ تم اپنے گھر جانے والے ہو پھر جب گھر جاؤ تو جماع ہی جماع ہے۔ پھر فرمایا: کہ تم اپنا اونٹ بیچتے ہو؟ میں نے کہا: کہ ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک اوقیہ چاندی کے عوض میں خرید لیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور میں دوسرے دن صبح کو پہنچا اور مسجد میں آیا اور ان کو مسجد کے دروازے پر پایا تو فرمایا: کہ تم ابھی آئے؟ میں نے عرض کی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اونٹ کو یہاں چھوڑ دو اور مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھو۔ (اس سے ثابت ہوا کہ سفر سے آئے تو پہلے مسجد میں جا کر دوگانہ ادا کرے یہی مسنون ہے) پھر میں گیا اور دو رکعت ادا کی اور پھرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ مجھے ایک اوقیہ چاندی تول دیں، پھر انہوں نے تول دی اور جھکتی ڈنڈی تولی (یعنی زیادہ دی) پھر میں جب چلا اور پیٹھ موڑی تو پھر بلایا اور میں نے خیال کیا کہ اب میرا اونٹ مجھے پھیریں گے اور اس سے بڑھ کر کوئی شئے مجھے ناپسند نہ تھی تو مجھ سے فرمایا: کہ جاؤ اپنا اونٹ بھی لے جاؤ اور قیمت بھی تم کو دی۔

صحيح مسلم # 3641
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp