كِتَاب الرِّضَاعِ رضاعت کے احکام و مسائل

حدثنا يحيى بن يحيى ، وابو الربيع الزهراني ، قال يحيى: اخبرنا حماد بن زيد ، عن عمرو بن دينار ، عن جابر بن عبد الله : ان عبد الله، هلك وترك تسع بنات، او قال: سبع، فتزوجت امراة ثيبا، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يا جابر، تزوجت "، قال: قلت: نعم، قال: " فبكر ام ثيب "، قال: قلت: بل ثيب يا رسول الله، قال: " فهلا جارية تلاعبها وتلاعبك، او قال: تضاحكها وتضاحكك "، قال: قلت له: إن عبد الله هلك وترك تسع بنات او سبع، وإني كرهت ان آتيهن او اجيئهن بمثلهن، فاحببت ان اجيء بامراة تقوم عليهن وتصلحهن، قال: " فبارك الله لك "، او قال: لي خيرا، وفي رواية ابي الربيع: تلاعبها وتلاعبك، وتضاحكها وتضاحكك،

‏‏‏‏ سیدنا جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہا سے پہلے وہی مضمون مروی ہے اخیر میں ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی (یہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کے والد ہیں جنگ احد میں شہید ہوئے تھے) اور نو یا سات لڑکیاں چھوڑ گئے تو مجھے پسند نہ آیا کہ میں ان کے برابر ایک لڑکی بیاہ لاؤں اور میں نے چاہاکہ ایسی عورت لاؤں جو ان کی خدمت کرے اور ان کی خبر لے۔ سو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ کو برکت دے۔ یا کوئی اور دعائے خیر فرمائی۔

صحيح مسلم # 3638
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp