كِتَاب الرِّضَاعِ رضاعت کے احکام و مسائل

حدثنا إسحاق بن إبراهيم ، ومحمد بن حاتم، قال محمد بن حاتم ، حدثنا محمد بن بكر ، اخبرنا ابن جريج ، اخبرني عطاء ، قال: حضرنا مع ابن عباس جنازة ميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم بسرف، فقال ابن عباس : " هذه زوج النبي صلى الله عليه وسلم، فإذا رفعتم نعشها، فلا تزعزعوا ولا تزلزلوا وارفقوا، فإنه كان عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، تسع فكان يقسم لثمان ولا يقسم لواحدة "، قال عطاء: التي لا يقسم لها صفية بنت حيي بن اخطب،

‏‏‏‏ عطاء رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ہم حاضر ہوئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ سرف میں جنازہ پر سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جو بی بی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کہ خیال رکھو یہ بی بی صاحبہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھر جب تم ان کے جنازہ مبارک اٹھانا تو ہلانا ڈلانا نہیں اور بہت نرمی سے لے کر چلنا اور بات یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نو بیبیاں تھیں اور ان میں سے آٹھ کے لئے باری مقرر تھی اور ایک کے لئے نہیں اور عطاء نے کہا کہ وہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔

صحيح مسلم # 3633
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp